ہیرو بننے کے شوق نے بھارتی وزیر اعظم کو زیرو بنادیا، ہر کوئی ہنسنے لگا

ہیرو بننے کے شوق نے بھارتی وزیر اعظم کو زیرو بنادیا
گلوان سے 150 کلومیٹر دور ہی اپنی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہسپتال کے بجائے کانفرنس ہال میں بیڈز لگوا کر جعلی مریضوں کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے
ہیرو بننے کے شوق نے بھارتی وزیر اعظم کو زیرو بنادیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ گلوان سے 150 کلومیٹر دور ہی اپنی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہسپتال کے بجائے کانفرنس ہال میں بیڈز لگوا کر جعلی مریضوں کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق چین کا خوف بھارتی وزیر اعظم کے دل میں ایسا بیٹھا ہے کہ مقبوضہ لداخ کے دورے کے دوران وادی گلوان سے 150 کلومیٹر دور ہی پڑائو ڈالے رہے اور اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہسپتال کے بجائے کانفرنس ہال میں بیڈز لگوا کر جعلی مریضوں کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے۔ چین کے خوف کے مارے نریندر ا مودی نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب جانے کی ہمت نہیں کی بلکہ چین سے تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر دور نیمو بیس میں رہنے میں ہی غنیمٹ جانی۔ مگر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے مودی جی کالا چشمہ ملٹری جیکٹ اور کیپ پہن کر ایسے تصاویر بنوائیں جیسے جنگ کے دوران کسی مورچے میں بیٹھے ہوئے ہوں۔ فوٹو سیشن کے لئے دہلی سے لداخ آنے والے نریندرا مودی نے اپنے ان فوجیوں کے ساتھ تصاویر نہ بنوائی جنہیں مار مار کر چین نے ادھ موا کردیا تھا۔ دوسری جانب ایک بھارتی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے ایک پاکستانی صحافی نے بھارتی اینکر کی بولتی بند کروا دی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلے پاکستانی صحافی نے چپ کر کے تجزیہ نگاروں کی باتیں سنی اور بعد میں بولنا شروع کیا۔ بات کرتے ہوئے صحافی کا کہنا تھا کہ مودی کو نیپال اور بھوٹان سے کچھ سیکھ کر چین کا نام براہ راست لینا چاہیئے، بھارتی وزیراعظم لداخ کے بھی اسی علاقے میں گئے جہاں چین کی فوج موجود نہ تھی، لداخ میں خطاب کے دوران بھی انہوں نے چین کا نام نہیں لیا، کم از کم باقی ممالک چین کا نام تو لے رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.