پاکستان کے دنیا بھر میں چرچے۔۔۔!!! پاکستانی وینٹی لیٹرز تیار ہوتے ہی غیر ملکی میڈیا بھی تعریف کرنے پر مجبور، شاندار خبر آ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) میڈان پاکستان ‘ پاکستان میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے وینٹی لیٹرز کی سہولت اب موجود ہے ۔ تفصیلات کے مطابق دو دن قبل وزیراعظم عمران خان نے این آرٹی سی ہر پور کا دورہ کیا تھا اور پاکستان میں تیار ہونی والے پہلی کھیپ این ڈی ایم اے کے حوالے کی ۔

حکومت کے اقدام پر غیر ملکی میڈیا بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاکستانی حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے، پاکستان میں تیار ہونے والے وینٹی لیٹرز پر امارات کے خبر رساں ادارے نے کہا کہ اب پاکستانی وینٹی لیٹرز ایک حقیقت بن چکے ہیں، خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستان میں اب 250 سے 300 وینٹی لیٹرز ماہانہ بنانے کی کیپسٹی موجود ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر فواد چودھری اور زبیدہ جلال بھی ہمراہ تھیں، وزیراعظم نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے وینٹی لیٹرز پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا اور وزیراعظم کو پاکستانی انجینئرز کے تیار کردہ وینٹی لیٹرز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔جبکہ وزیراعظم نے پاکستانی وینٹی لیٹرز کے 15 یونٹس این ڈی ایم اے کے حوالے بھی کیے۔وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی تیاری پر یہ بہت اہم دن ہے ، ہماری حکومت نے اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نجی ٹی وی 92 نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ کورونا سے بھی زیادہ خطرناک بیماری پاکستان میں داخل ہو گئی ہے ، جس کا نام ” کاوا ساکی “ ہے اور اس نے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیاہے ، پاکستان کے چار بڑے شہروں میں اس مرض میں مبتلا بچے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔نجی ٹی وی کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ پانچ سال سے 19 سال کے بچوں میں یہ بیماری آتی ہے یہ” پوسٹ کووڈ ڈیزیز “ہے، وہ بچے جو کورونا سے صحت یاب ہو جاتے ہیں ان کو دو سے چھ ہفتوں کے دوران علاما ت ظاہر ہوتی ہیں جس میں جسم پر ریشز، آنکھوں میں سرخی، بخار اور گلینڈز پھول جاتے ہیں۔ او راس کا تشخیصی ٹیسٹ اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بچہ کووڈ سے ریکور کرگیا ہے ۔اس بیماری سے متعلق نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد ملک کا کہناتھا کہ یہ ایک بیماری ہے، ایک کمپلیکشنز ہے ، اس میں مبتلا بچے کی زبان موٹی ہو جاتی ہے دس دن کے اندر ، یہ بہت ہی کم پائی جانے والی بیماری ہے ، اگر کسی بچے کو ہوجائے تو اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور انتقال بھی ہو سکتا ہے ۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.