میرپور کے 1696رہائشی پلاٹوں کی مفت بحالی

میرپور کے 1696رہائشی پلاٹوں کی مفت بحالی اور دیگر منسوخ شدہ مفاد عامہ کی جگہوں کے تنازعہ ومسمارگی سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی

میرپور(خبرنگار)آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ میرپور ڈسٹرکٹ میرپور شہر میں 1985ءسے 2016ءتک منسوخ شدہ پلاٹوں کی مفت بحالی اور مفاد عامہ کی جگہوں پر بدوں اختیار الاٹ شدہ رقبہ جات کے خلاف گرینڈ آپریشن کمیشن سے متعلق اہم مقدمہ کی سماعت اب ماہ اگست کی 19تاریخ کو ہوگی۔جس میں ڈسٹرکٹ بار ایسی سو ایشن میرپور کے سابق صدر ذوالفقار احمد راجہ ایڈوکیٹ میرپور کے متاثرہ شہریوں کی طرف سے عدالت کے روبرو اعتراضات پیش کرینگے۔اس سلسلے میں ادارہ ترقیات میرپور کے ڈی جی اعجاز رضا اورایڈمنسٹریٹر مرزا طاہر مفاد عامہ کی جگہوں پر الاٹ شدہ پلاٹوں پر سے آپریشن کمیشن اپ کے بارے میں عدالت کے روبرو اہنی رپورٹس پیش کرینگے۔میرپور کے 1696رہائشی پلاٹوں کی مفت بحالی اور دیگر منسوخ شدہ مفاد عامہ کی جگہوں کے تنازعہ ومسمارگی کے بارے میں سابق صدر بار ذوالفقار احمد راجہ ایڈوکیٹ کو شہریوں کے نمائندہ افراد نے اپنے وکالت نامے اور با اثر لوگوں کی طرف سے مفاد عامہ کی جگہوں کو ملی بھگت سے الاٹ کروانے کی تفصیلات بھی جمع کرانے شروع کر دی ہیں جن میں ادارہ ترقیات میرپور کی طرف سے الاٹ کی گئی مفاد عامہ کی جگہوں پر سینکڑوں کے حساب سے پلاٹوں کی الائمنٹس بھی شامل ہیں۔جو بپلک پارکس ،مسجد،سیوریج،واٹرٹینکس ،سڑکوں ،گلیوں اور گرین بیلٹس پر بنیادی نقشوں میں تبدیل کرتے ہوئے پارٹ پلان بنا کر ایم ڈی اے کے ذمہ داران نے الاٹ کر رکھی ہیں ۔ج پر سپریم کورٹ پہلے ہی ہدایت دے چکی ہے کہ مفاد عامہ کی جگہوں پر الاٹمنٹ قابل منسوخ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.