کویت ، نیپال کے بعد ایران نے بھی بھارت کو بڑا جھٹکا دیدیا

ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل پراجیکٹ سے الگ کر دیا
دہلی اورتہران کے درمیان 4 سال قبل یہ معاہدہ طے پایا تھا

نئی دہلی ایران نے فنڈز میں تاخیر کرنے پر بھارت کو چاہ بہار ریل پراجیکٹ سے الگ کر دیا، ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے. بھارت اور ایران کے درمیان 4 سال قبل یہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت افغانستان کی سرحد کیساتھ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر ہونی ہے بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پراجیکٹ شروع کرنے اور فنڈنگ میں تاخیر کرنے پر بھارت کو اس پراجیکٹ سے الگ کر دیا ہے.
ایرانی حکام نے بھارتی میڈیا کو بتایا ہے کہ پورا پراجیکٹ مارچ 2022ءتک مکمل ہوگا اور ایران اس ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا ایران نے چابہار بندرگاہ کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول بھارت کے سپرد کرنے کے لیے سنیچر کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں. واضح رہے کہ ایران اور بھارت کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے تھے دونوں ملکوں نے 9معاہدوں کو حتمی شکل دی تھی جن میں سب سے اہم معاہدہ چابہار بندرگاہ کے بارے میں تھا جو بھارت کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے صرف 90 کلومیٹر دور ہے.
اس معاہدے کے تحت بھارت کو 18 مہینوں کے لیے بندرگاہ کے پہلے فیز کا آپریشنل کنٹرول حاصل ہونا تھا چابہار بندرگاہ میں دلچسپی کی وجہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست افغانستان پہنچنا تھا. اس منصوبے کے سلسلہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایران اور ایرانی صدر روحانی نے نئی دہلی کا دورہ کیا تھا‘اس وقع پروزیر اعظم نریندر مودی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ بھارت چابہار کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے میں ایران کی مدد کرے گا‘ایران بھارت کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے اگرچہ دونوں ملکوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تیل اور گیس فیلڈز کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوئی یا نہیں. تاہم امریکا کی جانب سے پابندیوں کے بعد بھارت نے اپنی پالیسیوں میں تبدیل کرتے ہوئے تہران سے منہ موڑ لیا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سردمہری آئی ہے جبکہ پاکستان اور تہران کے درمیان اس دوران تعلقات میں بہتری آئی ہے. بھارت جنوبی ایران کے ان آئل فیلڈز سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے کانٹریکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے جن کی ممکنہ مالیت اربوں ڈالر ہو گی لیکن برسوں سے جاری مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے.
بھارت ایران اور افغانستان نے مئی 2016 میں یہ بین الاقوامی راہ داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ہی چابہار بندرگاہ پر کام تیزی سے آگے بڑھایا گیا اور بھارت نے گذشتہ سال چابہار کے راستے امداد کی شکل میں گندم کی ایک قسط افغانستان بھیجی تھی اس نے افغانستان کو 11 لاکھ ٹن گندم امداد کی شکل میں دینے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بالکل فری ہے نئی دہلی بنیادی طور پر پاکستان کی مغربی سرحدوں پر بھی دباﺅ بڑھانا چاہتا تھا تاہم خطے کے بدلتے حالات نے ایک طرف بھارت کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے. بھارت خطے میں تنہائی کا شکار ہورہا ہے تو دوسری جانب چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات پر نئی دہلی کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے وہیں افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے بھارت کے منصوبوں پر پانی پھر گیا ہے اور مغربی سرحد کی طرف سے بھارت کے لیے دہشت گردی کے راستے بند ہوگئے ہیں اور کابل کے علاوہ افغانستان میں طالبان کا کنٹرول ہے اسی طرح ایران کی سرحدوں کے بارے میں بھی تہران اور اسلام آبادکے درمیان پچھلے چند سالوں میں قربتیں بڑھی ہیں .

Sharing is caring!

Comments are closed.