امریکہ میں کورونا وائرس کی 2 ممکنہ ویکسینز کی حتمی آزمائش

امریکہ میں کورونا وائرس کی 2 ممکنہ ویکسینز کی حتمی آزمائش

واشنگٹن امریکہ میں کورونا وائرس کی دو ممکنہ ویکسینز کی وسیع پیمانے پر حتمی آزمائش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے محفوظ اور موثر ہونے کا یقین کیا جا سکے۔امریکی بایوٹیک فرم موڈرنا کی ویکسین کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزز نے تیار کیا ہے اور اس کی پہلی خوراک جارجیا کے شہر سوانا میں پہلے رضاکار کو دی گئی۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 30 ہزار صحت مند رضاکاروں کو یہ ویکسین کئی ہفتوں کے وقفے سے دو بار لگائی جائے گی۔اس سے پہلے ہوئی آزمائش میں کسی رضاکار کو سخت مضر اثرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، تاہم نصف سے زیادہ افراد میں معمولی یا درمیانے درجے کے اثرات دیکھنے میں آئے تھے، ان میں تھکن، سردرد، ٹھنڈ، پٹھوں میں درد اور ٹیکے کے مقام پر درد جیسی شکایات شامل تھیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزز کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے صحافیوں کو بتایا کہ آخری مرحلے کی آزمائش کے ابتدائی نتائج نومبر تک معلوم ہوجائیں گے۔ اگر آزمائش کامیاب رہی تو موڈرنا ہر سال ویکسین کی 50 کروڑ خوراکیں فراہم کرے گی جبکہ اسے امید ہے کہ وہ سالانہ ایک ارب خوراکیں بنانے کے قابل ہوجائے گی۔دوسری تجرباتی ویکسین امریکی کمپنی فائزر نے تیار کی ہے جس میں اسے جرمنی کی بایو این ٹیک کا تعاون حاصل ہے۔ یہ ویکسین امریکہ، برازیل، ارجنٹائن اور جرمنی میں 30 ہزار افراد کو دی جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.