ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈی جی جنوبی ایشیا کی پریس کانفرنس

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے نظر ثانی اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا

کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کے مختلف منصوبوں میں ملوث رہا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان اور ڈی جی جنوبی ایشیا کی پریس کانفرنس
بھارتی دہشت گرد کلبھوشن نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی درخواست سے انکار کر دیا ہے۔اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گرفتار ہونے والے مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
بدھ کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان اور ڈی جی جنوبی ایشیا نے مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد اقدامات کیے۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کے مختلف منصوبوں میں ملوث رہا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا کہ کلبوشن نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی بنیاد پر کلبوشن کی اہلیہ سے ملاقات کا انتظام کیا۔اد رہے کہ 2016 میں بھاری خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن کو پاکستانی ایجنسی کے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے و ہ پاکستان کی حراست میں ہے۔پاکستانی ایجنسیوں کو معلومات ملنے پر کارروائی کی گئی تھی جس کے مطابق کلبھوشن پاکستان میں رہتے ہوئے منصوبہ بندی کر رہا تھا جس سے وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والا تھا۔ کلبھوشن نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ پاکستان میں ہونے والے کچھ دہشت گردی کے معاملات میں ملوث تھا۔اعتراف جرم کرنے کے بعد اسے حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد تفتیش کا سلسلہ جاری کیا گیا۔طالبان اور امریکہ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں پاکستان نے اپنا کردار ادا کرکے ایک مثبت پیغام دیا ہے کیونکہ طالبان نے ہمیشہ پاکستان کے فائدے کے لئے کام کیا ہے۔
انہوں نے ہمیشہ پاکستان کو فائدہ پہنچانا چاہا ہے۔انکشاف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن کو گرفتار کروانے میں بھی طالبان نے اپنا کردار ادا کیا تھا ۔طالبان نے ہی پاکستان کو کلبھوشن کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع دی تھی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس لئے ا ن کی افغانستان میں موجودگی پاکستان کے لئے نہایت مفید ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.