اقامہ ایکسپائر ہوچکا کیا کریں ساری پریشانی ختم، سعودیہ سے اہم خبر سامنے آگئی

پاکستانی زائد المیعاد اقامے پر کیا کریں؟
کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب میں ابھی تک بین الاقوامی سفر پر پابندیاں عائد ہیں۔ تاحال اس بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کب تک پروازیں بحال ہوں گی۔

اردونیوز کے قارئین کی جانب سے سعودی عرب کے موجودہ حالات کے بارے میں مزید سوالات موصول ہوئے ہیں۔
امجد بٹ کا کہنا ہے کہ ’اقامہ ایکسپائر ہوچکا ہے۔ پاکستان جانا ہے کوئی معلومات دیں کہ کس طرح واپس جا سکتے ہیں؟
جواب: سعودی عرب میں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے تحت مقامی اور بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم اندرون ملک سفر پر پابندیاں ختم کرکے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سفر کی اجازت دی گئی ہے۔ بین الاقوامی سفر پر تاحال پابندی برقرار ہے۔
سعودی حکومت کی جانب سے ’عودہ ‘ یعنی واپسی کے عنوان سے مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے منصوبہ مرتب کیا گیا تھا جس کے ذریعے سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن کو واپس جانے کے لیے خود کو رجسٹر کرانے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔
عودہ پروگرام کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ وہ تارکین جن کی حکومت اپنے شہریوں کو واپس بلانا چاہتی ہے ان سے معاملات طے کرنے کے بعد انہیں مملکت سے خصوصی پروازوں کے ذریعے روانہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ کی جانب سے بھی ہم وطنوں کی واپسی کے لیے خصوصی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سفارت خانے کے مطابق اب تک تقریباً 20 ہزار سے زیادہ ہم وطنوں کو روانہ کیا جا چکا ہے۔
جہاں تک آپ کا سوال ہے کہ آپ کا اقامہ ایکسپائر ہوچکا ہے اور اب آپ واپس جانا چاہتے ہیں، آپ نے خود کو ’عودہ ‘ پروگرام میں رجسٹربھی نہیں کرایا تو سب سے پہلے آپ وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر ابشر اکاؤنٹ میں دیے گئےعودہ پروگرام میں خود کو رجسٹرکرائیں، بعدازاں قونصلیٹ سے رجوع کرکے اپنی بکنگ کرا سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ اقامہ ایکسپائر ہو چکا ہے۔ اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اقامہ کب ایکسپائر ہوا تھا۔ کیا آپ فیملی کے ساتھ مقیم ہیں یا نہیں؟ اگر آپ موجودہ صورت حال میں یعنی کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندی کے دوران آپ کا اقامہ ایکسپائر ہوا تھا اس صورت میں مارچ میں شاہی فرمان کے تحت تمام کارکنوں کا تین ماہ کے لیے مفت اقامہ تجدید کیا گیا تھا۔ اس دوران خود کوعودہ پروگرام میں رجسٹر کراتے یا قونصلیٹ سے رجوع کیا جا سکتا تھا۔ اب جبکہ سعودی حکومت کی جانب سے دوبارہ شاہی فرمان کے تحت تمام غیر ملکی جن کے اقامے مارچ میں ایکسپائر ہوگئے تھے ان کی مفت تجدید کی جا رہی ہے اس صورت میں آپ کا اقامہ بھی اس قانون کے تحت تجدید ہوسکتا ہے۔ اگر آپ پرکسی قسم کی قانونی بندش نہیں تو موجودہ شاہی فرمان کے مطابق آپ کا اقامہ بھی 3 ماہ کے لیے تجدید ہو جائے گا اس کے بعد آپ فوری طور پر واپسی کے لیے عودہ پروگرام سے مستفیض ہوسکتے ہیں۔ وطن واپس جانے کے لیے سفارت خانے یا قونصلیٹ سے رجوع کرکے ان سے مدد بھی لی جا سکتی ہے۔ پاکستان قونصلیٹ اور سفارت خانے میں ویلفیئر کا شعبہ موجود ہے جو ہم وطنوں کی ہر ممکن مدد کرتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ فوری طور پر سفارت خانے یا قونصلیٹ کے شعبہ ویلفیئر سے رجوع کر کے انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کریں تاکہ موجودہ شاہی فرمان کے تحت آپ کی مشکل حل کی جا سکے۔ شاہد علی کا سوال ہے کہ سعودی عرب سے جو افراد کورونا بحران میں واپس جا رہے ہیں اور ان کے ویزے ختم ہوگئے تھے کیا دوبارہ نئے ویزوں پر واپس آسکتے ہیں؟ جواب: کورونا بحران کی وجہ سے حالات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں کیونکہ مملکت میں بین الاقوامی سفر ابھی تک بحال نہیں ہوا ہے اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے شاہی فرمان کے تحت ان تمام افراد کے ویزوں کوتین ماہ کے لیے مفت بڑھانے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ شاہی احکامات پر عمل درآمد کے لیے طریقہ کار کا تعین جلد ہی کردیا جائے گا جس کے بعد آپ کا ویزا کارآمد ہو جائے گا۔ اس طرح نئے ویزے پرآنے کی کوفت سے بچ سکیں گے جہاں تک آپ کا سوال ہے اس بارے میں موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھ کریہی کہا جا سکتا ہے کہ جب حالات نارمل ہوں گے اور سفر پر عائد پابندیاں ختم ہوں گی تو قوانین بھی اس کے مطابق مرتب ہوں گے۔ ہنگامی صورت حال میں سابقہ قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ اب جبکہ شاہی احکامات کے تحت اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں تین ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے تو مسائل کافی حد تک حل ہوجائیں گے۔ امید ہے کہ جلد ہی حالات نارمل ہو جائیں اور معمولات زندگی حسب سابق بحال ہو جائیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.