کورونا وائرس کے حملے سے کوئی نہ بچ سکا۔۔!!! فلم انڈسٹری سے ایک اور بدترین خبر آگئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک) فلمی دنیا کے سب سے معتبر فلمی ایوارڈ ‘آسکر’ دینے والے ادارے دی اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس اور اے بی سی ٹیلی وژن نیٹ ورک نے کورونا کی وبا کے باعث ‘آسکر’ ایوارڈز کی تقریب کو 2 ماہ کے لیے مؤخر کر دیا۔ یہ خبریں پہلے ہی تھیں کہ آسکر اکیڈمی کے

منتظمین نے ایوارڈز تقریب کو ملتوی یا منسوخ کرنے پر غور شروع کردیا ہے، تاہم اب اس کی تصدیق بھی کردی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ آسکر ایوارڈز کی تقریب کسی بیماری کے باعث منسوخ کی گئی ہے، تاہم اس سے قبل بھی کم از کم تین مواقع پر آسکر ایوارڈز کی تقریب ملتوی یا منسوخ کی جا چکی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آسکر اکیڈمی اور اے بی سی ٹیلی وژن نیٹ ورک انتظامیہ نے تصدیق کردی کہ اب ایوارڈز کی تقریب اپریل 2021 میں ہوگی۔ 93 ویں ‘آسکر’ ایوارڈز کی تقریب فروری کے آخر میں منعقد ہونا تھی، تاہم اب اسے 25 اپریل 2021 کو منعقد کیا جائے گا۔ اکیڈمی کے بورڈ آف گورنرز کے مطابق میوزیم آف موشن پکچرز کا افتتاح بھی دسمبر 2020 کے بجائے اب 30 اپریل 2021 تک مؤخر کردیا گیا، اب ممکنہ طور پر میوزیم کا افتتاح آئندہ سال ہی ہوگا۔ علاوہ ازیں اکیڈمی نے فلموں کی نامزدگی کی تاریخ بھی بڑھاتے ہوئے وضاحت کی کہ اب نامزدگیوں کا اعلان 15 مارچ کو کیا جائے گا جب کہ اکیڈمی 15 اپریل تک نامزد ہونے والی فلموں کی حتمی فہرست جاری کردے گی۔ فلموں کی نامزدگی کی فہرست جاری کرنے کے 10 بعد 25 اپریل کو لاس اینجلس میں 93 ویں ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوگی، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایوارڈز تقریب ہر سال کی طرح ہی ہوگی یا اسے کورونا کے پیش نظر محدود یا مختصر کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث جہاں دنیا بھر میں سینما گھر بند کرکے فلموں کی شوٹنگ منسوخ کردی گئی اور فلموں کی ریلیز کو روک دیا گیا،

وہیں اس کے باعث کانز فلم فیسٹیول سمیت دیگر فلمی تقریبات کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کسی بیماری کے باعث فلم انڈسٹری کی مصروفیات کو معطلی اور منسوخی کا سامنا ہے اور اس وبا کے باعث عالمی سطح پر فلم انڈسٹری کو 10 سے 15 ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ بھی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کی وجہ سے جہاں گزشتہ چند ماہ سے دنیا میں فلموں کی نمائش نہیں ہو رہی، وہیں آسکر نے بھی رواں برس مارچ میں اپنے ضوابط میں ترامیم کرتے ہوئے ان فلموں کو بھی ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا جنہیں کورونا کے باعث ریلیز نہیں کیا جا سکا۔ چند دن قبل ہی آسکر نے فلموں کی نامزدگی کے حوالے سے مزید ترامیم کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اب ان فلموں کو ہی نامزد کیا جائے گا جن میں ہر رنگ و نسل کے اداکار اور تکنیکی عملے کی خدمات حاصل کی گئی ہوں گی۔ گزشتہ 92 سال میں صرف تین ایسے مواقع گزرے ہیں جب آسکر ایوارڈز کی تقریب کو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے اور کم از کم ایک دن کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے 1938 میں آسکر ایوارڈز کی تقریب اس وقت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی تھی جب لاس اینجلس میں بدترین سیلاب آیا تھا۔ دوسری بار 1968 میں امریکی سیاستدان اور معروف سماجی رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی ہلاکت کے موقع پر ایوارڈز تقریب کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کیا گیا تھا۔ اسی طرح آسکر ایوارڈز کی تقریب کو تیسری اور آخری بار 1981 میں ایک دن کے لیے اس وقت ملتوی کیا گیا تھا جب کہ امریکا کے 40 ویں صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس بار چوتھی بار آسکر ایوارڈز کی تقریب ملتوی کی گئی ہے اور پہلا موقع ہے کہ اسے کسی بیماری کے باعث ملتوی کیا گیا۔ مجموعی طور پر آسکر کی تاریخ میں یہ چوتھا جب کہ گزشتہ 40 سال میں پہلا موقع ہے کہ اسے ملتوی کیا گیا، اب 93 ویں آسکر ایوارڈز کی تقریب 2 ماہ کی تاخیر سے 25 اپریل 2021 کو ہوگی۔ س ایوارڈ کی پہلی تقریب 1929 میں ہوئی تھی اور اس کی تقریبات جنگ عظیم دوئم کے کشیدہ حالات میں بھی منعقد ہوتی رہی تھیں۔ دنیا کے تمام ممالک کے اداکاروں کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں زندگی میں کم از کم ایک آسکر ایوارڈ ضرور ملے، تاہم دنیا بھر کے لاکھوں اداکار و فلم ساز ایسے ہیں جنہیں آج تک یہ ایوارڈ نہیں ملا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.