صورتحال قابو سے باہر۔۔!! ایک اور اتحادی جماعت نے حکومت کو 1 ہفتے کا الٹی میٹم دے دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اختر مینگل کی حکومت سے علیحدگی کے بعد ایک اور اتحادی نے دھمکی دے دی ہے۔ جمہوری وطن پارٹی نے بھی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا ہے۔ اس حوالے سے جمہوری وطن پارٹی کی کور کمیٹی نے اجلاس میں فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد بیانیہ

جاری کیا گیا ہے کہ ہفتے میں معاہدے پر عمل کیا جاتا ہے تو ٹھیک ورنہ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنما جمہوری وطن پارٹی شاہ زین بگٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہم سے کئے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا، اس لئے حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں، ہمارے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کر دیں، ورنہ ہم اتحاد ختم کر دیں گے۔یاد رہے کہ بی این پی مینگل نے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل کی جانب سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمارے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو پورا نہیں کیا۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگست 2018 کو پہلا معاہدہ ہوا،شاہ محمود،جہانگیرترین اوریارمحمدرند نے دستخط کئے، ہم نے2 سال تک اس معاہدے پرعملدرآمد کا انتظارکیاہے۔ ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم مزید انتظار کرنے کو بھی تیار ہیں، لیکن حکومت کچھ کرے تو سہی، وہ لوگ کرتے کچھ بھی نہیں ہیں۔اپنے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر بات کرتے ہوئے اختر مینگل کی جانب سے ایوان میں سوال بلند کیا گیا ہے کہ ان دونوں معاہدوں میں کوئی بتادےکہ کوئی بھی ایک غیرآئینی مطالبہ ہے؟ کیوں آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ؟ حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی جس کا بھائی لاپتا تھا اس کے بازیابی کےلئے وہ چارسال لڑتی رہی لیکن اب اس لڑکی نے دو دن پہلے خود کشی کرلی،اس کی ایف آئی آرکس کےخلاف کاٹی جانی چاہیے؟ اختر مینگل کی جانب سے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہاتھ ملایا آپکے ساتھ ،گلہ نہیں کررہے،صدر،اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،چیئرمین سینیٹ سمیت ہرموقع پر ووٹ دیا لیکن ہمارے ساتھ کیا گیا ایک بھی معاہدہ حکومت کی جانب سے پورا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہم اتحاد ختم کر رہے ہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.