خلافت عثمانیہ کا مرکز رہنے والے ترکی اور عرب ممالک کے درمیان جنگی ماحول بڑھنے لگا۔۔!!! پورے عالم اسلام کے لئے انتہائی تشویشناک خبرآگئی

دبئی (ویب ڈیسک) ترکی اور عرب ممالک کے مابین کشیدگی کے نئے سلسلے سے پورے عالم اسلام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ عرب ممالک کا خیال ہے کہ ترکی خطے میں ایک ناقابل برداشت مداخلت کررہا ہے ۔ ۔ اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید آل نھیان نے یورپی یونین کی

خارجہ پالیسی کمیٹی سینیر مندوب جوزف بوریل سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ رکی عرب ممالک میں مسلسل مداخلت کررہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک میں انقرہ کے خلاف غم او غصہ اور نفرت مسلسل بڑھ ہی رہی ہے۔ سوڈان اور لیبیا میں غیر ملکی مداخلت کے معاملےپر عرب ممالک مسلسل ترکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ اگر ترکی نے قبلہ درست نہ کیا تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ عرب ممالک میں ترکی کا کردار ناپسندیدہ ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید آل نھیان نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیٹی سینیر مندوب جوزف بوریل سے ٹیلیفونک گفتگومیں کہا ہے کہ رکی عرب ممالک میں مسلسل مداخلت کررہا ہے جس پر عرب ممالک میں انقرہ کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے دوران گفتگو سوڈان اور لیبیا کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیااور لیبیا میں غیرملکی مداخلت بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اماراتی وزیر خارجہ اور جوزف بوریل نے اس بات پر اتفاق بھی کیا کہ اگر لیبیا کو نقصان پہنچا تو خطے کے دوسرے ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔الشیخ عبداللہ بن زاید نے مزید کہا کہ عرب ممالک میں ترکی کا کردار ناقابل قبول ہے۔ اگر ترکی اپنا قبلہ درست نہیں کرتا تواس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.