بریکنگ نیوز: چینی فوج نے ’’درہ قراقرم‘‘ کے اہم علاقےمیں پوزیشن سنبھال لی۔۔۔ جنگ کی کیفیت، پورے بھارت میں کہرام مچ گیا

قراقرم (ویب ڈیسک) چینی فوج نے وادی گلوان ویلی میں درہ قراقرم کے قریب نئی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جو اسٹرٹیجک لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ درہ قراقرم سے صرف 12 کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی فوج کی دولت بیگ ملٹری بیس اور ائیراسٹرپ بھی موجود ہے، درہ قراقرم چین پاکستان

اور بھارت کی سرحدوں کا سنگم ہونے کے ساتھ متنازع علاقہ بھی ہے۔ سیاچن کو ملٹری سپلائی کی وجہ سے بھی اس علاقے کی اہمیت بہت زیادہ ہے، درہ قراقرم سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر شاہراہ قراقرم ہے جو سی پیک کے روٹ اور پاکستان کے اہم ہائی ویز تک جاتا ہے۔ گزشتہ روز وادی گلوان میں بھارتی فوج سے جھڑپ کے بعد چینی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ چین وادی گلوان پر اپنی خودمختاری کو قائم رکھے گا۔ اس سے قبل چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ لداخ کی وادی گلوان ہمیشہ سے چین کا حصہ رہی ہے، بھارت لائن کراس نہ کرے۔ گزشتہ روز چین اور بھارت کے درمیان متنازع سرحدی علاقے لداخ میں چینی افواج سے جھڑپوں میں بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 فوجی مارے گئے تھے۔ اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا صحیح غلط سب واضح ہے، بھارتی فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں، بھارت اپنےفوجیوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کو روکے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین کے وزیرخارجہ وانگ ای اوربھارتی وزیرخارجہ سبرامنیم جےشنکر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نےسرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں طرف سے سرحدی علاقوں میں امن قائم رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق چینی وزیرخارجہ نے بھارت سے وادی گلوان کے واقعات کے ذمہ داروں کو سخت سزادینے کامطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت سرحد پر تعینات فوجیوں کو قابو میں رکھے۔ چین کے ساتھ کشیدہ صورتحال پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آل پارٹیز اجلاس طلب کرلی۔ بھارتی وزیراعظم ہاؤس کے مطابق آل پارٹی اجلاس 19 جون کو شام 5 بجے بلایا گیا ہے، ورچوئل اجلاس میں مختلف جماعتوں کے سربراہ شرکت کریں گے۔ بھارتی وزیر دفاع نے بھی گلوان میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے تاہم انہوں نے چین کا نام نہیں لیا جس پر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.