بریکنگ نیوز: ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔۔۔!!!ڈرائیور کی بیٹی سی ایس ایس آفیسر بن گئی

اسلام آباد (ب ڈیسک) عیسائی ڈرائیور کی بیٹی سی ایس ایس آفیسر بن گئی۔تفصیلات کے مطابق سینٹرل سپرئیر سروسز (سی ایس ایس)2019 کے حتمی نتائج سامنے آگئے ہیں۔ ایف بی آر میں بطور ڈرائیور فرائض انجام دینے والے جان کینیڈی کی باصلاحیت بیٹی نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے اپنے والد کا سر فخر

سے بلند کر دیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے والے ڈرائیور جان کینیڈی کو خط لکھا گیا ہے ۔خط میں جان کینیڈی کو اس کی بیٹی رابیل کینیڈی کے سی ایس ایس امتحان پاس کر کے پاکستان کے محکمہ خارجہ میں خدمات کے لیے چن لیا گیا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سے رابیل کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے مکینیک کے بیٹے زوہیب قریشی بھی سی ایس ایس آفیسر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی سی ایس ایس امتحانات کے نتائج کی میرٹ لسٹ میں 260ویں نمبر پر آئے ہیں اور ٹریننگ کے بعد وہ لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں آفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔ اس ضمن میں زوہیب قریشی نے بتایا کہ ان کے والد لاڑکانہ میں ایک موٹر مکینیک تھے اور ان کے والد کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ ان کے بچے سی ایس ایس آفیسرز بنیں جس کے لیے انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں اور بیٹی کو اعلی تعلیم دلوائی۔زوہیب قریشی نے بتایا کہ انہوں نے 2010 میں لاڑکانہ کیڈٹ کالج سے ایف ایس سی پاس کیا اس کے بعد انہوں نے دو مرتبہ کمیشن آفیسر بننے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں دونوں بار اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کے والد نے انہیں ہمت دی اور سی ایس ایس کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے والد کی حوصلہ افزائی پر مہران یونیورسٹی حیدرآباد میں مکینیکل انجینئرنگ میں داخلہ لیا اور وہاں اپنی تعلیم شروع کی، اسی دوران 2012 میں ان کے والد کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وفات ہوگئی۔زوہیب قریشی نے بتایا کہ انہوں نے پنے والد کی خواہش پوری کرنی تھی لیکن وہ سی ایس ایس کی تیاری پر ٹھیک سے اپنی توجہ مرکوز نہیں کرپا رہے تھے کیونکہ ان کے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت شروع کردی تھی، اسی دوران ان کی بہن، بھائی اور امی نے انہیں سمجھایا کہ سی ایس ایس ٹیسٹ کے لیے دل لگاکر محنت کرو اور نوکری چھوڑ دو۔جس کے بعد مسلسل محنت سے کامیاب ہو گیا۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.